214

بلی اور توا

اگرایک بلی ایک گرم توئے پر بیٹھ جائے تو وہ بلی پھر دوبارہ توئے پر کبھی نہیں بیٹھے گی۔ حتی کہ وہ بلی ایک ٹھنڈئے توئے پر بھی نہیں بیٹھے گی۔ بلکہ اس بلی کو سرئے سے توئے سے ہی نا پسندیگی ہو جائے گی۔

مارک ٹوئین کےمندرجہ بالا اقتباس کو مدنظر رکھتے ہوئے اب ذرا ہم عوام ( بشمول ایشیائی و دیگر ممالک ) اپنی تاریخ کا جائزہ لیں،

کیا ہم اتنے احمق ہیں کہ ہرپار ایک حکومت منتخب کرنے کے بعد اسے ہی اپنی آخری امید مان لیتے ؟

ہر پار ایک حکومت آتی ہےتو ہم گزشتہ دور حکومت کو بدترین کہہ دیتے ہیں لیکن اگلی بار دوبارہ اسی کو منتخب کرتے ہیں ؟

ہرپار ایک حکومت آتی ہے اور ہر بار گزشتہ حکومت پہ خزانہ خالی کرنے کا الزام دیتی ہے اور ہم من و عن یقین کر لیتے ہیں لیکن اگلی بار ہم پھر وہی حکومت منتخب کرتے ہیں ؟

انتخابی مہم کے دوران ہمیشہ کی طرح ہر بار ہر تقریر اس وقت کے موجودہ حکمران و حکومت مخالفت ہوتی ہے لیکن انتخابات کے بعد وہ سب آپس میں دوست بن جاتے اور ہم عوام بے حس بنے رہتی ہیں، رتی برابر بھی احساس نہیں کرتے ؟

ہر بار حکومت آئین کی پناہ لیتی ہے اور اپنی کرپشن، بدانتظامی اور بوگس منصوبے کو بچانے کے لئے قوانین توڑتی اور بناتی ہے اور ہر بار کہا جاتا ہے کہ قوم کی بہتری کے قانون میں ترمیم کی ہے اور ہم ہر بار کی طرح مان لیتے ہیں ؟

ہر بار کی طرح انتخابی امیدوار انتخابات سے پہلے ہر وقت ہمارے دروازے پر ہوتے ہیں اور اس کے بعد ہم ان کو اگلے پانچ سالوں تک ان کو اپنے دروازئے تو کیا محلے بلکہ علاقے تک میں دیکھائی نہیں دیتا لیکن اگلی بار پھر ہم انھی کو ووٹ دے دیتے ؟

ہم ہر چیز/بات کو سمجھتے، بوجھتے و جانتے ہیں لیکن ہم خود کو تبدیل کرنے کی کوشش نہیں کر سکتے ؟ ؟

آخر کیوں ؟ ؟ ؟

سوچیئے گا ضرور – کیوں کہ جواب ہم بخوبی جانتے ہیں۔ ۔ ۔
اور آگاہ ضرور کیجیئے گا کہ کیا رائے ہے آپ سب کی؟
پر جواب دینے سے پہلے ہم سب خود کو آئینہ میں ضرور دیکھنا ہو گا۔
حسبی اللہ لا الہ الا ھو علیہ توکلت وھو رب العرش العظیم – ، القرآن سورتہ توبہ، آیت 129
اللہ سبحان وتعالی ہم سب کو مندرجہ بالا باتیں کھلے دل و دماغ کے ساتھ مثبت انداز میں سمجھنے، اس سے حاصل ہونے والے مثبت سبق پر صدق دل سے عمل کرنے کی اور ساتھ ہی ساتھ ہمیں ہماری تمام دینی، سماجی و اخلاقی ذمہ داریاں بطریق احسن پوری کرنے کی ھمت، طاقت و توفیق عطا فرما ئے۔ آمین!

(تحریر – منقول)

مندرجہ بالا تحریر سے آپ سب کس حد تک متفق ہیں یا ان میں کوئی کم بیشی باقی ہے تو اپنی قیمتی آراء سے ضرور آگاہ کر کے میری اور سب کی رہنمائی کا ذریعہ بنئیے گا۔ کیونکہ ہر شخص/فرد/گروہ/مکتبہ فکر کا اپنا اپنا سوچ اور دیکھنے کا انداز ہوتا ہے اور اس لیے ہمیں اس سب کی سوچ و نظریہ کا احترام ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے اس کی کسی بات/نکتہ کو قابل اصلاح پائیں تواُس شخص/فرد/گروہ/مکتبہ فکر یا ادارئے کی نشاندہی اور تصیح و تشریح کی طرف اُن کی توجہ اُس جانب ضرور مبذول کروائیں۔

نوٹ: لکھ دو کا اپنے تمام لکھنے والوں کے خیالات سے متفق ہونا قطعی ضروری نہیں۔
اگر آپ بھی لکھ دو کے پلیٹ فارم پر لکھنا چاہتے ہیں تو اپنا پیغام بذریعہ تصویری، صوتی و بصری یا تحریری شکل میں بمعہ اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، لنکڈان، فیس بک اور ٹویٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ [email protected] پر ارسال کردیجیے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.